*کهڑے ہوکر پیشاب کرنے میں چار حرج ہیں *🌈 امام اهلسنت مجدد اعظم قدس سرہ العزیز ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :
کهڑے ہوکر پیشاب کرنے میں چار حرج ہیں:
*اول* بدن اور کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا جسم و لباس بلا ضرورت شرعیہ ناپاک کرنا اور یہ حرام ہے...الخ
*دوم* ان چھینٹوں کے باعث عذاب قبر کا استحقاق اپنے سر پر لینا ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : پیشاب سے بچو کہ اکثر عذاب قبر اسی سے ہے
📙 ( سنن دار قطنی باب نجاستہ البول )
*سوم* رہگزر پر ہو یا جہاں لوگ موجود ہوں تو باعث بے پردگی ہوگا، بیٹهنے میں رانوں اور زانووں کی آڑ ہوجاتی ہے اور کهڑے ہونے میں بالکل بے ستری اور یہ باعث لعنت الہی ہے-
*حدیث میں ہے : جو دیکهے اس پر بهی لعنت اور دکهائے اس پر بهی لعنت*
📗 ( مشکوتہ باب النظر الی المخطوبتہ)
*چہارم* یہ نصاریٰ سے تشبہ اور ان کی سنت مذمومہ میں ان کا اتباع ہے آج کل جن کو یہاں یہ شوق جاگا ہے اس کی یہی علت اور یہ موجب عذاب و عقوبت ہے...الخ
💠 _اس حرکت ( کهڑے ہو کر پیشاب کرنا) سے نہی(ممانعت) اور اس کے بے ادبی و جفا و خلاف سنت مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ہونے میں احادیث صحیحہ معتمدہ وارد ہیں._
💠 اس کے بعد سیدی اعلی حضرت قدس سرہ نے ان احادیث مبارکہ کو نقل فرمایا تفصیل کےلئے دیکهئے *فتاویٰ رضویہ جلد 4 صفحہ 585 تا 597)*
واللہ تعالی اعلم
=============================
🖊از قلم:
امین فکر رضا،حضرت علامہ حامد سرفراز قادری رضوی مدظلہ النورانی