مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی بھٹیارے (مشہور گستاخ) کی علمی اوقات*
*درسی کتابوں کا تھانوی صاحب کے ذہن سے ذہول اور مطالعے کی کمی:*
تھانوی صاحب کہتے ہیں،
ایک سبب تصنیف کی دشواری کا میرے لئے یہ بھی ہے کہ کتابوں پر میری نظر نہیں درسی کتابوں کے علاوہ اور کتابیں میں نے دیکھیں نہیں ۔ ہاں درسی کتابیں بحمد اللہ اچھی طرح مستحضر تھیں مگر اب ان میں بھی ذہول شروع ہو گیا ۔ اور تصنیف کے لئے صرف درسی کتابیں کافی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ میری تصنیفات کا زیادہ حصہ غیر منقولا ہیں ۔ اول تو میرے پاس کتابیں نہیں اور جو ہیں ان پر نظر نہیں اور تصنیف بدوں کتابوں پر نظر ہوئے مشکل ہے جس کا اب تحمل نہیں اس ہی لئے اب جو فتاوے آتے ہیں واپس کر دیتا ہوں ۔ (الافاضات الیومیہ، جلد ٨، ص ٢٩٧)
یہ ملفوظ ٤ شعبان ١٣٥١ھ بوقت صبح یوم شنبہ کا ہے پہلے یہ عبارت جلد ٤ پر تھی. اب تھانوی کے معشوقوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ جلد ٨ پر آگیا. اس سے آپ تھانوی کی تالیفات کا اندازہ لگا لیں، ملفوظات خود تھانوی کی تصنیف نہیں اور جو تصنیفات اس سے منسوب ہیں اکثر وبیشتر اس کے ملفوظات سے ہی اخذ کئے گئے ہیں.
*تھانوی اور علم فقہ:*
میرے ان کہنے کو آپ تواضع پر مبنی نہ فرماویں... باقی مہارت اور مناسبت جس کا نام ہے وہ مجھ کو فقہ سے کبھی ہوئی ہی نہیں. (الافاضات الیومیہ، جلد ٦، ص ٣٠٩)
مجھ فقہ سے مناسبت اور مہارت ہوتی تو خدا نخواستہ کیا خدمت دین سے نکار ہوسکتا تھا جو کہ عین دین ہے. (الافاضات الیومیہ، جلد ٦، ص٣٦١)
جی
*نمازی کلمات میں غلطی:*
دیوبندیوں کے حکیم الامت کہتے ہیں،
چنانچہ پہلے نماز کے اندر سمع الله لمن حمدہ میں دال کو کھینچ کر کہا کرتا تھا ۔ ایک شخص جو مرید تھے انہوں نے مجھ کو غلطی پر مطلع کیا. (الافاضات الیومیہ، جلد ١٩، ص ١٩، ص ٤٤)
*مسائل جزئیہ بھی یاد نہیں:*
مجھے مسائل جزئیہ یاد نہیں ہیں میں خود اپنی ضرورت کے وقت دوسرے علماء سے پوچھ پوچھ کرعمل کرتا ہوں.....ادھورا سا جو کچھ پہلے ٹوٹا پھوٹا پڑھا تھا آپ وہ بھی بھول بھال گیا. (الافاضات الیومیہ، جلد ٦، ص٢٣٤)
خواجہ صاحب نے مسح خفین کے متعلق کچھ مسائل پوچھے تو فرمایا استفتا کیجئے جزئیات زبانی یاد نہیں. (الافاضات الیومیہ، جلد ٢٠، ص ٢٥٧)
*پڑھنے پڑھانے سے بے رغبتی:*
اگر مجھ کو اس پڑھنے پڑھانے سے دلچسپی ہوتی تو اب بھی خدا کا فضل ہے کہ اگر کتا ب لے کر بیٹھو تو ٹوٹا پھوٹا پڑھا سکتا ہوں مگر پھر بھی چھوڑ دینا اس کی کافی دلیل ہے کہ دلچسپی نہیں رہی اس لئے ایسی کاوش سے گرانی ہوتی ہے (الافاضات الیومیہ، جلد ٦، ص٢٤٥)
*یادداشت حکیم دیوبند:*
دیوبندیوں کے حکیم الامت کی یادداشت ملاحظہ فرمائیں، کہتے ہیں،
اب مجھ کو اپنی یاد پر بھروسہ نہیں رہا اب تو جب مجھ کو خود بھی ضرورت ہوتی ہے تو دوسرے علماء سے پوچھ کر عمل کرتا ہوں. (الافاضات الیومیہ، جلد ٧، ص٢٧٦)
فرمایا کہ اب میں اس کام کا نہیں رہا مسائل زیادہ یاد بھی نہیں ۔ میں خود دوسرے علماء سے مسائل پوچھ کر عمل کرتا ہوں. (الافاضات الیومیہ، جلد ٨، ص٢٢٩)
کیا ہر وقت مسائل کی تحقیق کیا کروں... میں خود اپنی ضرورت کے وقت دوسرے علماء سے مسائل پوچھ پوچھ کر عمل کرتا ہوں مجھ کو پورا استحضار بھی نہیں رہا. (الافاضات الیومیہ، جلد ٨، ص٣٢٦)
*اپنی ہی عبارتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں:*
تھانوی صاحب کہتے ہیں،
بعض عبارتیں میری ہی پہلی لکھی ہوئی اب خود میری ہی سمجھ میں نہیں آتیں آج ہی کا واقعہ ہے کہ ایک یک فتویٰ میرا ہی لکھا ہوا نکل آیا بڑے غور سے فکر سے بار بار دیکھا تب سمجھ میں آیا یہ معترضین محض نحوی ہیں. (الافاضات الیومیہ، جلد ٥، ص٢٨٨)
آپ اب اندازہ لگا لیں کہ تھانوی کے عشاق جو اس کی تشہیر بازی کی حقیقت کیا ہے اور اس کی چند تالیفات کا چھ سو تصنیفات بن جانا کس دروغ گوئی کا نمونہ ہے.
جب کوئی آیت حل کرنے کی حاجت ہوتی ہے اپنی تفسیر سے دیکھ کر حل کرتا ہوں پچھلا لکھا ہوا نہیں یاد رہتا. (الافاضات الیومیہ، جلد ١٧، ص٢٤)
*فضائل مصطفی ﷺ کی ایک بھی روایت یاد نہیں:*
اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے بڑے جلسہءدستار بندی میں بعض اکابر نے ارشاد فرمایا کہ اپنی جماعت کی مصلحت کے لئے حضور صلی الله علیہ وآله وسلم کے فضائل بیان کئے جائیں تا کہ اپنے مجمع پر جو وہابیت کا شبہ ہے وہ دور ہو اور موقع بھی اچھا ہے کیونکہ اس وقت مختلف طبقات کے لوگ موجود ہیں۔ حضرت والا (تھانوی صاحب) نے باادب عرض کیا، اس کے لئے روایات کی ضرورت ہے اور وہ روایات مجھ کو مستحضر نہیں۔(اشرف السوانح حصہ اول ص ٧٦)
دوسری جگہ خود ہی کہتے ہیں،
جب دیوبند میں بڑا جلسہ ہواتھا اس میں مجھ سے حضرت مولانا دیوبندی رحمه الله نے فرمایا تھاکہ اس جلسہ میں حضورﷺ کے فضائل بیان کرنا مناسب ہے یہ حضرت مولانا کا فرمانا اس خیال سے تھا کہ بڑا مجمع ہے ہرقسم کے عقائد کے لوگ اطراف سے آئے ہوئے ہیں جن میں بعضے وہ بھی ہیں کہ ہم لوگوں کےمتعلق یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ ان کے دل میں حضوراقدس ﷺ کی عظمت نہیں نعوذ بااللہ توایسے لوگ رسول الله ﷺ کے فضائل سن کر یہ سمجھ جائیں گے کہ حضورﷺ کے متعلق ان کے یہ خیالات ہیں میں نے عرض کیا کہ ایسے بیان میں روایات کے یاد ہونے کی ضرورت ہے اور روایات مجھ کو محفوظ نہیں میری روایات پر نظربہت کم ہے.
*لٹھ پیر اور دعوی مجددیت:*
اتنی جہالت اور اقرار کے بعد بھی مجدد ہونے کا دعوی کرتے ہوئے کہتے ہیں،
اب بحمداللہ طریق بے غبار ہے صدیوں تک تجدید کی ضرورت نہیں اور جب ضرورت ہوگی حق تعالیٰ اور کسی کو پیدا فرمادینگے مگراس چودھویں صدی میں تو ایسے ہی پیرکی ضرورت تھی جیسا کہ میں ہوں لٹھ.(الافاضات الیومیہ، جلد ٤، ص٨٠)
*تھانوی اور سود کی اجازت:*
میں نے ایک جگہ بیان کیا تھا کہ رشوت لینا گناہ ہے ۔ خیر اگر کم ہمتی سے ضرورت ہی سمجھتے ہو تو لو ۔ مگر برا تو سمجھو اور اکل حلال کی فکر کرو. (الافاضات الیومیہ، جلد ١٩، ص ٣٩٥)
دوسری جگہ کہتے ہیں،
ایک صاحب کا خط آئرلینڈ سے آیا ہے لکھا ہے کہ میں عنقریب ہندوستان آنے والا ہوں اور میرا روپیہ بنک میں جمع ہے اس کے سود کو لیکر کہاں خرچ کرنا چاہئے میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کہ اس کو لیکر ہندستان آجاؤ اور پھر آکر مسئلہ پوچھو - ایسا جواب اس لئے لکھا کہ نازک مسئلہ ہے معلوم نہیں تحریر سے کچھ غلط فہمی ہوجاوے. (الافاضات الیومیہ، جلد ٦ ، ص ٢٩٤)منجانب گروپ:الصــابـر والمصبــور