*::: تحدیث نعمت کا بڑھتا ہوا دائرہ :::**از:*
*حافظ محمد حبیب اللہ بیگ ازہری*
*استاد جامعہ اشرفیہ مبارک، پور اعظم گڑھ، یوپی.*
بندے پر ضروری ہے کہ وہ ہر حال میں اللّٰہ کا شکر ادا کرے، اور ہر ممکن طریقے سے ادا کرے، ادائے شکر کے بہت سے طریقے ہیں، جن میں ایک معروف طریقہ تحدیثِ نعمت کا بھی ہے، ارشاد باری ہے:
*وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ.*
(سورة الضحى 11)
یعنی اپنی رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو.

تحدیث نعمت کا یہ مطلب ہے کہ بندہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا برملا اظہار کرے، اور اپنے طرز حیات سے بطور خاص اپنے قول وعمل اور خوراک وپوشاک سے اس بات کی شہادت دے کہ اللہ نے بے انتہا نعمتوں سے نوازا ہے، بڑی خوش حال اور اطمینان بخش زندگی عطا فرمائی ہے.
مجھے کسی کی نیت پر شک نہیں، مجھے کسی کا حال دل معلوم نہیں، اور نہ میں اس کا مکلف ہوں نہ ہی یہ میرے بس کا روگ ہے، تاہم دیکھنے، سننے سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب کسی کو اپنی تعریف کرنی ہوتی ہے، یا دوسروں کو اپنی خدمات سے آگاہ کرنا مقصود ہوتا ہے تو تحدیث نعمت کا خوب صورت لیبل لگا کر تعریف وتوصیف کا سلسلہ شروع کر دیا جاتاہے، بسا اوقات یہ سلسلہ اس قدر دراز ہوجاتا ہے کہ تحدیث نعمت کا دور دور تک پتہ نہیں رہتا.
بندوں پر اللہ کے انعامات واحسانات کی نوعیت مختلف ہے، اسی لیے تحديث نعمت کے انداز بھی مختلف ہیں.
اہل علم کہتے ہیں:
بطور تحدیث نعمت کے عرض ہے کہ میں نے اب تک دو درجن سے زائد کتابیں لکھیں، کم وبیش سو مقالات ومضامین لکھے، سیکڑوں طلبہ کو پڑھا کر حافظ، قاری، عالم بنادیا، تقاریر کے بارے میں پوچھنا ہی کیا، یوٹیوب پر میرا پرسنل چینل ہے، میرے سبسکرائبرز ہزاروں میں اور ویورز لاکھوں میں ہیں، میری معلومات کے مطابق بہت کم ایسے افراد ہوں گے جنھوں نے اتنی کم مدت میں اتنا بڑا کام کیا ہو، یہ سب اللہ کا کرم ہے.

سرمایہ دار کہتے ہیں کہ بطور تحديث نعمت عرض ہے کہ شہر کی تمام مساجد میں ہم نے ہی قالین بچھوائی ہے، ہر سال ملک کے بے شمار مدارس میں ہمارے یہاں سے چندہ کی موٹی رقم جاتی ہے، اور پورے رمضان المبارک میں فقرا ومساکین کی امداد کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ شہر میں بہت سے سرمایہ دار ہیں، لیکن بڑے میاں کی بات ہی کچھ اور ہے، یہ سب اللہ کا کرم ہے.
مخلص اور خیر خواہ حضرات کہتے ہیں: بطور تحدیث نعمت کے عرض ہے کہ شہر میں بلکہ قرب و جوار کے تمام اضلاع میں محض ہماری وجہ سے سنیت بحال ہے، آج جتنے بھی نوجوان علما سر گرم عمل ہیں سب کو ہم نے تعلیم کی راہ پر لگایا ہے، ہم نے انھیں امجدیہ، اشرفیہ اور سعدیہ وثقافہ جیسے عظیم اداروں میں حصول علم کے لیے آمادہ کیا ہے، اور بعض ذہین اور با ذوق طلبہ کو تو ازہر شریف کے لیے تیار کیا ہے، آج علاقے میں اسلام وسنیت کا جو بھی کام ہورہا ہے سب کے پیچھے اس ناچیز کی غیر معمولی کوششیں ہیں، اور سچی بات تو یہ ہے کہ اگر ہماری محنتیں نہ ہوتیں تو نہ کہیں فاتحہ ومیلاد کا اہتمام ہوتا نہ کوئی بریلی ومبارک پور کو جانتا، یہ سب اللہ کا کرم ہے.
میں نے چند نظیریں پیش کی ہیں، تلاش کرنے پر ایسی بے شمار نظیریں مل سکتی ہیں.
تحدیث نعمت پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میں تحدیث نعمت کا منکر نہیں ہوں، اسی طرح شرعی حدود میں رہتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ اپنی خدمات کی تشہیر کا مخالف نہیں ہوں، تاہم بطور تحدیث نعمت کچھ کہنے یا لکھنے سے پہلے درج ذیل امور پر توجہ لازم وضروری سمجھتا ہوں.
1- تحديث نعمت کا تعلق صرف زبان سے نہیں، بلکہ زبان اور دل دونوں سے ہے، اسی لیے بطور تحديث نعمت کچھ کہنے سے پہلے دل کا جائزہ لینا ضروری ہے، اگر واقعی دل میں تحدیث نعمت کے نیک جذبات کار فرما ہوں، دل کے گوشے گوشے سے *َأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً.* کی صدائیں بلند ہورہی ہوں، اور انگ انگ اس بات کی شہادت دے رہا ہو کہ *وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ.* تو زبان سے بطور تحديث نعمت کچھ کہنے کا جواز فراہم ہوجاتا ہے، اور اگر معاملہ اس کے بر عکس ہے، یعنی دل میں داد خواہی کے جذبات ہیں، اور زبان پر تحديث نعمت کا خوب صورت استعارہ ہے تو ایسے افراد کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے، اور اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ *يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ.* یعنی اللہ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے پوشیدہ راز کو جانتا ہے، قیامت کے دن سب کا حساب ہوگا، اور ہر ایک کو سزا وجزا کے مراحل سے گزرنا ہوگا.
2- تحديث نعمت کا معنی ہے: اللہ کی نعمت کا بیان، لہٰذا جب بھی بطور تحدیث نعمت کچھ بیان کیا جائے تو اللہ اور اس کی نعمتوں کا ذکر کیا جائے، اور اسی پر اکتفا کیا جائے، اور اگر کسی وجہ سے اپنا ذکر نا گزیر ہو تو اللہ اور اس کی نعمتوں کا ذکر اصالۃ اور حقیقۃ کیا جائے، اور اپنا ذکر ضمناً اور تبعا کیا جائے.
قرآن کریم نے بڑے واضح الفاظ میں بیان فرما دیا ہے کہ تحدیث نعمت کا اسلوب کیا ہونا چاہیے، اور تحدیث نعمت کے باب میں صالحین کا طرز عمل کیسا رہا ہے.
قرآن کریم میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے تحدیث نعمت کا ذکر کچھ اس طرح ہے:
*وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ * وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ.*
یعنی ہم نے داؤد وسليمان کو علم سے نوازا، تو انھوں نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی، اور سلیمان داؤد کے وارث ہوئے، اور فرمایا کہ ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئ، اور ہر شی سے حصہ دیا گیا، یہ سراسر فضل الہی ہے.
ان آیات کے مطابق حضرات داؤد وسليمان علیہم السلام نے بطور تحدیث نعمت بیان فرمایا کہ انھیں خلق خدا پر فضیلت دی گئی، انھیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی، اور ہر شی سے حصہ دیا گیا، لیکن انداز بیان دیکھیں کہ شروع میں اللہ کی حمد وثناء بیان کی، اور اخیر میں اس کے فضل و کرم کا ذکر فرمایا، اور کسی نعمت کے حوالے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے یہ کیا ہم نے وہ کیا، بلکہ ہر نعمت کی نسبت اللہ کی طرف کی، اور کہا کہ اللہ نے فضیلت بخشی، اللہ نے سکھایا، اور اللہ نے ہر شی سے نوازا.
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحدیث نعمت میں منعم اور اس کی نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے، اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو منعم علیہ ذکر ہوسکتا ہے، وہ بھی ضمناً اور تبعاً.
3- قرآن کریم نے جہاں تحديث نعمت کا حکم دیا وہیں اس بات کی بھی تعلیم دی کہ اپنی زبان سے اپنی تعریف مت کرو، کیونکہ اللہ سب کے ظاہری اور باطنی احوال سے با خبر ہے، سورہ نجم کی آیت نمبر 32 میں اللہ جل وعلا کا رشاد ہے:
*فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ.* یعنی اپنی زبانی اپنی پاکی مت بیان کرو، وہ متقی بندوں کو خوب جانتا ہے.
اس آیت میں خود ستائی یعنی اپنی زبان سے اپنی ہی تعریف کرنے، اور اپنی نیکیوں کا چرچا کرنے سے منع کیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کو بخوبی معلوم ہے کہ کون قابل تعریف ہے، اور کون تقوی شعار ہے.
اگر کوئی نیک اور پرہیزگار ہے تو اجر وثواب کا مستحق ہے، اگرچہ دنیا میں اس کے علم وفضل اور زہد وورع کا کوئی خطبہ پڑھنے والا نہ ہو، اور اگر کوئی عند اللہ قابل تعریف نہ ہو تو لاکھ اس کی تعریف کی جائے، کچھ بھی حاصل نہیں.
لہذا کسی بھی کام کی بنیاد تعریف وتوصیف پر نہ رکھی جائے، بلکہ اللہ کی رضا جوئی اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی پر رکھی جائے، اور تحديث نعمت کا دائرہ اتنا بھی وسیع نہ کردیا جائے کہ خود بینی اور تعریف پسندی کا شبہ ہونے لگے.
اللہ تعالی ہم سب کو حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین.
*ترسیل کار:*
# *أنوار القرآن ٹرسٹ، مچھلی پٹنم, اے پی*
# *اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد دکن*