*صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی اور ان کا نظریۂ تعلیم*بقلم: *مفتی محمد اختر حسین قادری*
[دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی یوپی]
*[خلیفۂ اعلیٰ حضرت صدرالشریعہ علامہ محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس مبارک 2 ذی القعدة کے بابرکت موقع پر نوری مشن /رضا لائبریری مالیگاؤں کی پیش کش]*
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ خاک ہندکے خمیر میں علم و حکمت ، فضل وکمال ،فکر و فن ، دانائی و بینائی ، تدبر و تفکر ، عقل و شعور جیسی بے شمار خوبیاں ملی ہوئی ہیں، یہ وہ بلند اقبال بقعۂ ارض ہے کہ ہر قرن اور ہر دور میں یہاں سے ایسے ایسے انسانی قافلے تیار ہوئے، جو پوری ملت اسلامیہ کے لیے قابل فخر سرمایہ کہلائے، جبین انسانیت پر دل کش جھو مر بنے اور دنیاے علم و ادب میں میر مجلس رہے۔
ہندوستان کا وہ خطہ جسے آج اترپردیش کہا جاتا ہے اس کی مردم خیز، علم پر ور اور قابل صد افتخار زمین سے بے شمار نامور علما، فضلا، شعرا، ادبا اورمؤرخین و محققین پیدا ہوئے اور اَن گنت اولیا و اصفیا ،زہاد و عباد، فقہا و محدثین اور خطبا و مفسرین نے جنم لیا جن کی دینی، علمی، دعوتی، تبلیغی، اصلاحی، مذہبی، سیاسی اور سماجی خدمات کو تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
گھوسی ضلع اعظم گڑھ (حال مئو) اترپردیش کا وہ مشہور اور روشن و تاب ناک مقام ہے، جہاں سے چودہویں صدی ہجری میں ایک ایسی عبقری شخصیت نے منصہ شہود پر جلوہ گری فرمائی، جس کے گیسوے علم و حکمت کی عطر بیز ی سے ایک عالم معطر اور مشک بو ہے، محراب و منبر سے لے کر ایوانِ سیاست و اقتدار تک جس کے فکروفن کی خوش بو پھوٹ رہی ہے۔ جسے دنیا صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ علامہ شاہ مفتی امجد علی اعظمی قدس سرہٗ کے نام سے جانتی ہے۔
*ولادت مبارکہ:*
آپ مدینۃ العلما گھوسی ضلع مئو میں ۱۲۹۶ھ مطابق ۱۸۷۸ء میں اس خاک دان گیتی پر رونق افروز ہوئے، علمی خانوادے کے فرد فرید تھے، آباو اجداداہل علم و فضل اور علم ظاہر و باطن کے جامع تھے، والد ماجد حضرت مولانا حکیم جمال الدین صاحب علوم شرعیہ کے ساتھ علم طب سے بھی مزین تھے، دادا حضرت مولانا خدا بخش صاحب صاحبِ کرامت بزرگ اور عارف کامل تھے۔ ۱؎
*تحصیل علم:*
آپ کی تعلیم کے متعلق علامہ غلام جیلانی اعظمی قدس سرہٗ یوں تفصیل ارقام فرماتے ہیں :
بالکل ابتدائی تعلیم اپنے دادا مولانا خدا بخش صاحب سے حاصل کی ان کے وصال کے بعد مولوی الٰہی بخش صاحب ساکن کو پا گنج شاگر د مولانا تراب علی صاحب لکھنوی سے کچھ پڑھا، جو گھوسی ہی کے مدرسہ میں مدرس تھے، اور بھی کچھ لوگوں سے پڑھتے رہے، یہ وہ زمانہ تھا کہ کوئی شخص نہ تعلیم کانگراں تھا نہ متکفل، پھر بچپن کا زمانہ کئی سال تک بے انتظامی کے ساتھ گزرا۔ مگر تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر ابتداے شوال ۱۳۱۴ھ کو مدرسہ حنفیہ جون پور( جو اس زمانے میں علم و فن کی عظیم دروس گاہ مانی جاتی تھی)کا سفر کیا، اس زمانے میں ریل گاڑی نہیں تھی، سواری کے لیے بڑی دشواری تھی، گھوسی سے اعظم گڑھ تک پیدل، پھر وہاں سے جون پور اونٹ گاڑی پر پہنچے، اور مدرسہ حنفیہ میں اپنے برادر عم زاد مولانا محمد صدیق صاحب کے پاس قیام کیا، علوم و فنون کی ابتدائی کتابیں مولانا محمد صدیق صاحب اور مولانا سید ہادی حسن صاحب علیہما الرحمہ سے کچھ دنوں تک پڑھیں، کچھ عرصے کے بعد تحریکِ آزادی ہند کے عظیم مجاہد اور اپنے وقت کے ممتاز و متبحر عالم دین علامہ فضل حق خیر آبادی کے شاگرد رشید جامع معقول و منقول استاذ الاساتذہ مولانا ہدایت اللہ خاں رام پوری ثم جون پوری علیہ الرحمہ متوفی ۱۳۲۶ھ/ ۱۹۰۸ء سے اکتساب فیض شروع کردیا، دن میں استاذ الاساتذہ سے اسباق پڑھتے اور رات میں ان کی خدمت کے لیے حاضر ہوجاتے، لیکن یہ خدمت بڑی بابر کت ہوا کرتی، حضرت صدر الشریعہ او ران کے بعض رفقاے درس استاذ الاساتذہ کے پیر دباتے رہتے اور اسباق کے متعلق پوچھ تاچھ جاری رکھتے، تھوڑی دیر میں تمام اسباق کا اعادہ ہوجاتا، اگرکوئی غلطی ہوتی تو حضرت استاذ الاساتذ ہ کی رہ نمائی سے دور ہوجاتی، اس نمایاں طریقۂ تعلیم سے حضرت صدرالشریعہ کا جوہر علم نکھرتا گیا، قطبی پڑھتے وقت ہی اس سے نیچے کی کتابیں شرح تہذیب وغیرہ دوسرے طلبا کو آسانی سے پڑھاتے تھے، اس پڑھنے ہی کے زمانے میں تعلیم و تدریس کا ذاتی تجربہ خوب حاصل ہو گیاتھا اور افہام و تفہیم کا خوب ملکہ ہوگیا تھا۔ ۲؎
*ذہانت و فطانت:*
رب کائنات نے آپ کو بے پناہ قوت حافظہ سے نوازا تھا۔ذکاوت و فطانت کی عظیم دولت کا جو حصہ آپ کو ملا دور دور تک اس کی نظیر نہیں ملتی۔ معقولات میں آپ کے استاذ جامع معقول و منقول حضرت علامہ ہدایت اللہ خاں رام پوری علیہ الرحمہ نے آپ کی محنت ولیاقت اور طبیعت کی اخاذی کی داد دیتے ہوئے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: شاگرد ایک ہی ملا وہ بھی بڑھاپے میں۔ ۳؎
اور برصغیر کے عظیم محدث حضرت علامہ و صی احمد محدث سورتی قدس سرہٗ نے اپنے تاثر کا اظہار ان کلمات سے کیا: مجھ سے اگر کسی نے پڑھا تو امجدعلی نے۔ ۴؎
علامہ غلام جیلانی اعظمی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں :
آپ کی ذہانت بھی آپ کی کرامت تھی، جس مضمون کو ایک مرتبہ دیکھ لیا سال ہا سال تک یاد رہا، اس لیے حدیث و تفسیر و علم کلام و فقہ و منطق و فلسفہ وغیرہ علوم کو حاصل کرنے کے سلسلے میں اس عبوری دو رکو بہت جلد طے فرمالیا، اور جب آپ مسندتدریس پر جلوہ فرما ہوئے تو ایسا پڑھا یا کہ ہزاروں مفلسوں اور تہی دستوں کو علم دین کے خزانے کی کنجیاں عطا فرمادیں۔ اگرچہ اس ماہ تابِ تدریس کو غروب ہوئے عرصہ ہو چکا ہے، مگر اب بھی ہندوپاک کے صدہامدارس میں آپ کے بلاواسطہ اور بالواسطہ تلامذہ کے ذریعے علوم ِدینیہ کی ضیا باری ہورہی ہے۔ ۵؎
*اساتذۂ کرام:*
حضورصدر الشریعہ نے عالم اسلام کی جن مقتدر شخصیات سے اکتساب علم کیا، ان کے تبحر علمی اور فنی جاہ و جلال کا آفتاب ہمیشہ نصف النہار پر رہا، ذیل میں ان نفوس قدسیہ کے اسما ے گرامی درج کیے جاتے ہیں جن سے حقیقت خود ہی آش کارا ہوجائے گی ۔
(۱) اعلیٰ حضرت مجد ددین و ملت امام احمد رضا قادری قدس سرہٗ
(۲) امام المحدثین حافظ الحدیث حضرت علامہ وصی احمد صاحب سورتی علیہ الرحمہ
(۳) استاذ الاساتذہ حضرت علامہ ہدایت اللہ خاں صاحب رام پوری علیہ الرحمہ
(۴) حضرت علامہ مولانا محمد صدیق صاحب اعظمی علیہ الرحمہ
(۵) حضرت علامہ مولانا الٰہی بخش صاحب اعظمی علیہ الرحمہ
(۶) جدامجد حضرت علامہ مولانا خدا بخش صاحب اعظمی علیہ الرحمہ ۶؎

*بیعت وارادت:*
آپ نے جن دنوں پٹنہ مدرسہ اہل سنّت کو اپنی علمی و فکری جو لان گاہ کا مرکز بنا رکھا تھا اور اعلیٰ حضرت اما م احمد رضا قدس سرہٗ نے پٹنہ تشریف ار زانی فرمائی اب آگے کی تفصیل علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی سابق شیخ الحدیث دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف سے سنیں آپ رقم طراز ہیں:
اسی موقع پر حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ کو پہلی بار اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ العزیز کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہوااور اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ العزیز کی نظر کیمیا اثر پہلی ہی نگاہ میں اپنا کام کرگئی اور دینی و روحانی مودت و محبت کے اس شجر کی جس کا تناور و بار آور ہونا ازل سے مقدر تھا، داغ بیل پڑگئی، ایک کشش پیدا ہوئی اور بے اختیار حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا قلب مائل ہوگیا، اور اپنے استاذ محترم حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کے مشورے سے سلسلۂ قادریہ میں اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہٗ العزیز کے حلقہ بگوش بن گئے۔ ۷؎
*فیضانِ علم وفن:*
حضرت صدر الشریعہ کا علمی فیضان آج پوری دنیا میں جاری ہے بر صغیر کا شاید ہی کوئی عالم ایسا ہوکہ جس کا سلسلۂ تلمذ آپ تک نہ پہنچتا ہو، اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :
صدرالمدرسین شیخ المحدثین استاذ المتکلمین صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت مولانا شاہ محمد امجد علی قدس سرہٗ العزیز مصنف بہار شریعت شارح طحاوی کی ذات گرامی کی حیثیت ہماری جماعت میں وہی ہے، جو کائنات میں آفتابِ عالم تاب کی ہے پوری دنیا میں رنگ و روغن نور و نکہت ، توانائی و حرارت کے سر چشمہ کی ذات ہے جو یومیہ کروڑوں من رنگ گر می روشنی اپنے خزانۂ عامرہ سے دنیا کو بخش کر عالم رنگ و بو کی بہاروں و رعنائیوں اور توانائیوں کو باقی رکھے ہوئے ہے اور صبح قیامت تک باقی رکھے گا۔
ہمارے علمی مراکز دینی اداروں اونچی سے اونچی خانقا ہوں میں جھانک کر دیکھو گے تو کہہ اٹھو گے ؎
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
سبھی اسی زلف کے اسیر ہوئے
بلاواسطہ فیض یافتگان تو اب صرف دو ایک رہ گئے، لیکن بواسطہ فیض یافتگان کی اگر کوئی فہرست بنائی جائے تو میرا اپنا اندازہ ہے کہ لاکھ سے کم نہ ہوگی- دینی خدمات کے جتنے بھی مناصب ہیں ، ان پر فائزین کو شمار کیجیے تو باستثنا ے دوچار کے سبھی حضرت صدر الشریعہ کے تلامذہ کے سلسلۃ الذھب کی کڑیاں ہیں ۔
دار الافتا کا جائزہ لیجیے۔ تمام دارالافتا کے مسندنشیں اسی مخزن علم و حکمت کے وارث ہیں۔ مدرسین کا سروے کیجیے تو آپ کو ہر دارالعلوم، ہر مدرسے میں، اسی استاذ الکل فی الکل کے تلامذہ نظر آئیں گے۔ مصنفین کا جائزہ لیجیے تو سب کے سب اسی خرمن کے خوشہ چیں ملیں گے۔ مقررین و خطبا پر نظر ڈالیے تو وہ سب اسی منبع فیض و برکت کی بارگاہ کے تربیت یافتہ ہیں۔ مشائخ سلاسل میں، جو صاحبانِ علم و فضل ہیں، انہیں کھنگا لیے تو ان سب کو علم و فضل کی دولت اسی داتا کی بارگاہ سے ملی ہے۔ اگر مضمون کی طوالت کا خوف نہ ہوتا تو آج کے تمام مشاہیر کا نام لے لے کر بتا دیتا اور دکھا دیتا کہ فلاں شیخ نے فلاں مدرسے میں فلاں سے پڑھا ہے اور وہ بواسطہ یا بلا واسطہ حضرت صدرالشریعہ کے تلمیذ ہیں۔ ۸؎
*عبقری مدرس:*
کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ پڑھاتے ہیں اور کچھ لوگ پلاتے ہیں۔ صدر الشریعہ قدس سرہٗ کی تدریسی لیاقت و صلاحیت کا زمانہ معترف ہے اپنے اور بے گانے علماو مشائخ اور دانش وران قوم و ملت سب آپ کی تعلیمی و تدریسی عظمت و رفعت کے مداح ہیں، بلاشبہ آپ کی تدریس کی یہ نمایاں خوبی تھی کہ نہایت ذہین و فطین تلامذہ اور تیز طرار طلبا کے ساتھ ساتھ کندذہن شرکاے درس کو بھی مکمل سیراب کردیتے اور ان کے قلوب واذہان میں مسائل و مضامین کو نقش کالحجر فرما دیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ صرف پڑھاتے ہی نہ تھے، بلکہ گھول کر پلابھی دیتے تھے۔ خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدر الا فاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہٗ نے ایک بار آپ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا:
آج صدر الشریعہ کی تقریر کا عنوان امتناع نظیر ہے مسئلہ اگر چہ بہت دقیق ہے، مگر بیان کرنے والا وہ عبقری مدرس ہے جو جعل بسیط و مرکب و جودرابطی، مثناہ بالتکر یر، جیسے اہم و دقیق منطقی وفلسفی مسائل کو پانی کردیتاہے، فلسفہ او رعلم کلام کے الٰہیات کے مسائل بدیہی کرکے سمجھا دیتا ہے۔ ۹؎
سرکار اعلیٰ حضرت مجدددین و ملت امام احمد رضا قدس سرہٗ یوں مدح سرا ہیں :
امجد علی کودرس نظامی کے تمام فنون میں کافی دست رَس حاصل ہے، اور فقہ میں توان کا پایہ بہت بلند ہے۔ ۱۰؎
*اخلاق و اطوار:*
آپ کمالات و فضائل کا عطر مجموعہ اور گونا گوں خوبیوں کا حسین گل دستہ تھے، ایک مومن کامل اور عارف حق کے جملہ اوصاف کے مکمل حامل تھے، آپ کے اخلاق وعادات کے متعلق علامہ غلام جیلانی اعظمی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
اس علمی کمال کے ساتھ (۱) آپ عمل صالح اورخلوص کے بھی حامل تھے آپ کی عبادت وزہد وتقویٰ بلکہ آپ کا ہر کام خلوص سے ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے آپ کا کلام پر تاثیرہوتا تھا۔ (۲) آپ کی دُعاومناجات سے رقت قلبی کا پتہ چلتا تھا۔(۳) آپ مستجاب الدعوات بھی تھے۔ (۴) آپ صابر و متحمل المزاج بھی تھے، عفوو درگزر آپ کا طریقۂ کار تھا۔ (۵) آپ کا غصہ بے محل نہ ہوتا۔ دینی نقصان کے پیش نظر آپ اظہار ناراضی فرماتے۔ (۶) احقاق حق و ابطال باطل آپ کا شیوہ تھا۔(۷) غیبت و چغلی و نفسانی عداوت سے آپ کو نفرت تھی۔ (۸) کینہ و بغض و حسد سے آپ پاک وصاف تھے۔ (۹) نہ کسی مخالف کی ترقی سے آپ کو رنج ہوتا نہ اس کی مصیبت سے خوشی۔ (۱۰) بہترین سیرت، بلند اخلاق اور تہذیب و شائستگی کے پیکر تھے۔ (۱۱) آرام طلبی و عیش پرستی سے آپ کو نفرت تھی۔ (۱۲) مسکین پروربے کس نواز تھے۔ (۱۳) صادق القول اور وعدہ وفاتھے۔ (۱۴) حرص وآز، تکبر وغرور سے بری تھے ۔ (۱۵) ایک عالم با عمل او ر صوفی کے لئے جو محاسن ہونے چاہئیں وہ آپ میں موجود تھے۔ آپ کے ان صفات کے شواہد قلم بند کروں تو ایک دفتر درکار ہوگا۔ ۱ ۱؎
*آپ کا نظریۂ تعلیم:*
صدر الشریعہ علم و حکمت کے اسرار و رموز کے ایسے شناور تھے کہ ان کے دور میں برصغیر کے کم ہی اہل علم ان کے ہم پلہ تھے۔تعلیم وتربیت اور تدریس کی مہارت اور نونہالانِ قوم و ملت کو زیور علم و فن سے مزین کرنے میں جو دست گاہ انہیں حاصل تھی، اس کا اعتراف جناب حبیب الرحمن خان شیروانی صاحب سے سنیں، وہ کہتے ہیں: جس کو مدرس کہتے ہیں، وہ ہندوستان میں چار پانچ سے زائد نہیں، ان ہی چار پانچ میں سے ایک مولوی امجد علی صاحب ہیں۔ ۱۲؎
ظاہر ہے کہ جو علمی کمالات و محاسن کی ایسی بلند قدروں سے سرفراز ہو وہ ملک و ملت کے اندر علمی ماحول برپا کرنے کا تصور بھی نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ رکھے گا۔ اس کے تراشے ہیرے بھی گوہر آب دار ہوں گے اور اس کا نظریۂ تعلیم و تعلّم بھی آسمان کی رفعت و بلندی پر ہوگا، آئیے صدر الشریعہ کے نظریۂ تعلیم کا مطالعہ کریں اور اس کے جلوئوں سے اپنی محفل کو پر نور بنائیں۔
*حصول تعلیم کا مقصد:*
زمانے کے بدلتے حالات نے عروج و زوال اور ترقی و تنزلی کا معیار یکسر بدل کررکھ دیا ہے، تہذیب و تمدن اور تعلیم و ثقافت سے لے کر صنعت و حرفت اور تجارت تک کے پیمانے اتھل پتھل ہوگئے ہیں، آج تعلیم کو صرف اور صرف مال وزر،مادی عیش و عشرت اور آسائش کے طرب انگیز اسباب کے حصول کا ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے، خالق کائنات کو رزاق ماننے کے بجائے تعلیم کو ہی رزاق قرار دیا جارہا ہے، مگر صدرالشریعہ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ تعلیم خوف خدالانے، اتباع شریعت کرنے اور رضاے مولیٰ حاصل کرنے کے لیے ہو اور انسان اس میدان میں نیت خیر لے کر اتر ے، چناں چہ ایک مقام پر رقم طراز ہیں:
طلب علم اگر اچھی نیت سے ہو توہر عمل خیر سے یہ بہتر ہے کیوں کہ اس کا نفع سب سے زیادہ ہے مگر یہ ضرور ہے کہ فرائض کی انجام دہی میں خلل و نقصان نہ ہوا چھی نیت کا یہ مطلب ہے کہ رضاے الٰہی اور آخرت کے لیے علم سیکھے، طلبِ دنیا و طلبِ جاہ نہ ہو، اور طالب کا اگر مقصد یہ کہ میں اپنے سے جہالت کو دور کروں اورمخلوق کو نفع پہنچائوں یا پڑھنے سے مقصود علم کا احیا ہے، مثلاً لوگوں نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے، میں بھی نہ پڑھوں تو علم مٹ جائے گا یہ نیتیں بھی اچھی ہیں اور اگر تصحیح نیت پر قادرنہ ہو، جب بھی نہ پڑھنے سے پڑھنا اچھا ہے۔ ۱۳؎
*کس علم کو اولیت حاصل ہے:*
صدر الشریعہ کی نگاہ ایقان و عرفان میں سب سے زیادہ اہمیت علم دین کو ہے۔ آپ بہ خوبی جانتے تھے کہ اسلامی گہوارہ میں نشوو نما پانے والے نونہال پہلے مسلمان ہیں، پھر اور کچھ اس لیے ان کا علمی سفر دینی تعلیم سے شروع ہو، اور ان کے قلوب و اذہان کی تعمیر اسلامی تعلیمات وہدایات کی روشنی میں ہو، اور ان کا اولین فکری سرمایہ علوم دینیہ کی شکل میں ان کے پاس موجود ہو، چناں چہ تحریر فرماتے ہیں:
سب سے مقدم یہ کہ بچوں کو قرآن مجید پڑھائیں اور دین کی ضروری باتیں سکھائی جائیں، روزہ، نماز، طہارت او ربیع واجارہ و دیگر معاملات کے مسائل جن کی روز مرہ حاجت پڑتی ہے اور ناواقفی سے خلاف شرع عمل کرنے کے جرم میں مبتلا ہوتے ہیں، ان کی تعلیم ہو، اگر دیکھیں کہ بچے کو علم کی طرف رجحان ہے اور سمجھ دار ہے تو علم دین کی خدمت سے بڑھ کر کیا کام ہے اور اگر استطاعت نہ ہو تو تضحیح و تعلیم عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم کے بعدجس جائز کام میں لگائیں، اختیار ہے۔ ۱۴؎
اسی طرح ایک مقام پر یوں رقم طراز ہیں :
علم ایسی چیز نہیں جس کی فضیلت اور خوبیوں کے بیان کرنے کی حاجت ہو، ساری دنیا جانتی ہے کہ علم بہت بہتر چیز ہے، اس کا حاصل کرنا طغرائے امتیاز ہے، یہی وہ چیز ہے کہ جس سے انسانی زندگی کام یاب اور خوش گوار ہوتی ہے اور اسی سے دنیاو آخرت سدھرتی ہے، مگر ہماری مراد اس علم سے وہ علم نہیں جو فلاسفہ سے حاصل ہوا ہو اور جس کو انسانی دماغ نے اختراع کیا ہو یا جس علم سے دنیا کی تحصیل مقصود ہو، ایسے علم کی قرآن کریم نے مذمت کی، بلکہ وہ علم مراد ہے جو قرآن و حدیث سے حاصل ہو کہ یہی وہ علم ہے جس سے دنیا و آخرت دونوں سنور تے ہیں اور یہی وہ علم ہے جو ذریعۂ نجات ہے اور اسی کی قرآن و حدیث میں تعریفیں آئی ہیں اور اسی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ۱۵؎
*عصری علوم کا حصول:*
اسلام دین فطرت، مکمل دستور حیات اور زندگی کے تمام شعبوں کی صحیح رہ نمائی کا ضامن ہے، ہر دور اور ہر زمانے کے حالات کا مقابلہ کرنا اس کی سرشت میں ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی متحرک اور تغیر پذیر ہے، چناں چہ آج ہر دن ایک نئی شان اور تازہ منظر نامہ نظروں کے سامنے ہوتا ہے، ایسے میں کوئی اسلام کا داعی و نقیب اور ملت کا قائد و رہنما بھلا یہ کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ امت مسلمہ عصری تقاضوں سے بے خبر اور حالات زمانہ سے نا آشنارہے اور اپنے گرد و پیش کے ماحول سے آنکھیں بند رکھے۔
صدر الشریعہ قدس سرہٗ اسلام کے داعی و مبلغ اور ملت اسلامیہ کے مخلص راہ بر و رہ نما تھے، آپ قوم مسلم کے اندر علم و فن کا ہر وہ جو ہر دیکھنا چاہتے تھے جو اسے عروج و ارتقا کی منزل عطا کرے اور علوم دینیہ کے ساتھ ہر اس علم کی تحصیل کے قائل تھے جس سے اس کامستقبل روشن و تاب ناک ہو، مگر ہر گام پر اصل مقصود اور مطمح نظر یہی ہو تا کہ ایمان وعقیدہ اور عمل و کردار کی پاکیزگی میں فساد کی بونہ آنے پائے چناں چہ انگریز ی تعلیم کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:
از نفس تعلیم وتعلّم زبان انگریزی با کہ نیست اما بسا اوقات بسبب امر آخر قباحت رونماید مثلاً صحبت کفار و فجار و تعلم امور خلاف شرع کہ ازیں اسباب عقائد فاسدہ در دل جاگیرد۔ وبعض وقت از اسلام بر طرف شود، فاما اگر ایں چنیں نباشد مضائقہ ندار د۔ ۱۶؎
اور اخبار ورسائل پڑھنے سے متعلق تحریر فرماتے ہیں :
بدمذہبوں کے اخبار و کتب عوام نہ دیکھیں، اگر چہ وہ آیات و احادیث بھی لکھیں کہ یہ لوگ اپنی کتابوں، تحریروں میںموقع پا کر ضرور کچھ باتیں اپنی بد مذہبی کی بھی لکھ دیا کرتے ہیں، بہت ممکن کہ عامی کے ذہن میں گھرکر جائے اور ہلاک ہو۔ امام ابن سیرین کے پاس دو بدمذہب حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہم آپ سے ایک حدیث بیان کرنا چاہتے ہیں، فرمایا نہ، عرض کی تو کوئی ہم آیت پڑھ کر سنائیں، فرمایا نہ،یاتم اٹھ جائو یا میں چلا جائوں گا، وہ دونوں نکل گئے لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی، فرمایا : انی خشیت ان یقرأعلی آیۃ فیحر فانھا فیقر ذٰلک فی قلبی۔ میں ڈراکہ آیت پڑھ کر اس کے معنی میں کچھ تحریف کریں اور میرے دل میں گھر کرے۔ اسی وجہ سے حدیث میںایسے لوگوں سے اجتناب تام کا حکم دیا گیا ہے ایاکم و ایاہم لایضلو نکم ولایفتنو نکم تم اپنے کو ان سے دور رکھو اور انہیں اپنے سے دور رکھو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں گُم رَاہ کردیں اور تمہیں فتنے میں ڈال دیں، نیز ان کی کتابیں وغیرہ اس طرح پڑھنے میں مصنفین کی وقعت ذہن میں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، اور بد مذہب کی توقیر حرام ہے۔ ۱۷؎
*احترام علم:*
علم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، لہٰذا ا س کی قدر ومنزلت ملحوظ رکھنا ہرصاحب اذعان و یقین اور اہل عقل و خرد کی فطرت ہونی چاہیے اور اگر کوئی اس کی ناقدری کرتا ہوتو اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ نور علم اس سے چھین لیا گیا ہے، علم کا اعزاز و احترام کس طو رپر ہو، اس کی تفصیل صدر الشریعہ سے سنیں، آپ فرماتے ہیں : عالم و متعلم کو علم کی توقیر کرنی چاہیے، یہ نہ ہو کہ زمین پر کتابیں رکھے،پاخانہ پیشاب کے بعد کتابیں چھونا چاہیں تو وضو کر لینا مستحب ہے، وضو نہ کرے تو ہاتھ ہی دھولے اب کتابیں چھوئے، اور یہ بھی چاہیے کہ عیش پسندی میں نہ پڑے کہ کھانے پینے رہنے سہنے میں معمولی حالت اختیار کرے، عورتوں کی طرف زیادہ توجہ نہ رکھے مگر یہ بھی نہ ہو کہ اتنی کمی کردے کہ تقلیل غذا اور کم خوابی میں اپنی جسمانی حالت خراب کردے، اور اپنے کوکم زُور کردے، کہ خود اپنے نفس کا بھی حق ہے، اور بی بی بچوں کا حق بھی ہے سب کا حق پورا کرنا چاہیے، عالم و متعلم کو یہ بھی چاہیے کہ لوگوں سے میل جول کم رکھیں اور فضول باتوں میں نہ پڑیں، ا ور پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ برابر جاری رکھیں، دینی مسائل میں مذاکرہ کرتے رہیں، کتب بینی کرتے رہیں، کسی سے جھگڑا ہوجائے تو نرمی اور انصاف سے کام لیں، جاہل اور اس میں اس وقت بھی فرق ہونا چاہیے۔ ۱۸؎
اور ایک جگہ قلم حقیقت رقم کو یوں مہمیز دیتے ہیں:
اس زمانہ میں کہ علم دین کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بہت کم باقی ہے ، اہل علم کو اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے جس سے علم کی عظمت پیدا ہو، اس طرح ہر گز تواضع نہ کی جائے کہ علم و اہل علم کی وقعت میںکمی پیدا ہو، سب سے بڑھ کر جو چیز تجربہ سے ثابت ہوئی وہ احتیاج ہے، جب اہل علم دنیا کو یہ معلوم ہو اکہ ان کو ہماری طرف احتیاج ہے، وہیں وقعت کا خاتمہ ہے۔ ۱۹؎
*معیار استاذ:*
اربابِ علم کا اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ تعلیم و تعلّم کسی فلک بوس عمارت اور سنگ مرمر سے مزین کسی تاج محل اور وہائٹ ہائوس پر موقوف نہیں ہے، اگر عمارت نہ بھی ہوتو اعلیٰ اور معیاری تعلیم ممکن ہے، یوں ہی اچھی اور عمدہ کتاب اور جامع نصاب کے بغیر بھی بالغ نظر علما اور فضلا وجود میں آسکتے ہیں، مگر ایک باکمال اورباصلا حیت اور کردار ساز استاذ و معلم کے بغیر یہ بہت مشکل ہے کہ طلبا آفتابِ حکمت و دانائی اور ماہ تابِ فضل و کمال بن کردین کو نور عطاکردیں اور فکر و فن کے لالہ و نسترن ہو کر فضاے بسیط کو مشک بار کر سکیں، استاذنسلوں کی عظمت و بلند ی اور اقوام و ملل کی عظمت رفتہ کی باز یافت میں کلیدی کردار اورمرکزی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔
صدر الشریعہ قدس سرہٗ نے مختلف مقامات پر اساتذہ کے خصائل و محامد کے جو لعل و گہر بکھیرے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ ایک استاذ کے لیے درج ذیل اوصاف و کمالات کا حامل ہونا نہایت ناگزیر ہے۔
(۱) علم و فن میں مہارت رکھتا ہو۔ (۲)دینی استاذ ہو تو بد عقیدگی کی نحوست سے پاک ہو۔ (۳)دیانت دار ہو۔ (۴)محنت و لگن اور توجہ سے تعلیم دیتا ہو۔ (۵)عدل و انصاف کی صفت کا حامل ہو۔ (۶)حرص و آز،لالچ و طمع سے خالی ہو۔ (۷)نرم خوئی اور متانت و سنجیدگی سے متصف ہو۔ (۸)کتب بینی اور مطالعے کا خوگرہو۔ (۹)اشاعت علم کے سلسلے میں بخل نہ کرتاہو۔ (۱۰)اخلاص و للہیت رکھتا ہو۔ (۱۱)طلبہ سے شفقت ومحبت اور پیار سے پیش آتا ہو۔ (۱۲)تقویٰ و طہارت اور تقدس و پاکیزگی کی دولت حاصل ہو۔ (۱۳)علم کی توقیر و تکریم کرتا ہو۔ (۱۴)جذبۂ اصلاح و تربیت میسر ہو۔ (۱۵)خوف خدا، عشق مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،محبتِ علما و صلحا کی نعمت بھی پاس ہو۔ (۱۶)علم کے اہل و نااہل کی تمیز بھی۔ (ماخوذبہار شریعت وفتاویٰ امجدیہ )
تعلیم و تعلّم کے حوالہ سے صدر الشریعہ کے پاکیزہ نظریات اور اعلیٰ افکار و عزائم کے نخلستان کی اس مختصر سی سیر سے آپ کے مشام جان ضرور معطر ہوگئے ہوں گے اور ایک سرسبز و شاداب زندگی کے لیے آج جس علم کی ضرورت ہے، اس کا سراغ آپ کو یقینا مل گیا ہوگا، وقت کی قلت اور اپنی بے بضاعتی کے سبب راقم اس عنوان کو اسی پر ختم کرتا ہے، ارباب بصیرت کے لیے امجدی چمنستان کے تمام ابواب و ا ہیں، جہاں سے چاہیں معانی و مطالب کی بہار کا لطف لے کر شرح صدر حاصل کرسکتے ہیں۔
☆☆☆
*کتابیات*

(۱) تذکرہ صدرالشریعہ ، از غلام جیلانی اعظمی ، ص۳۷
(۲) ایضاً ، ص۳۸
(۳) صدر الشریعہ نمبر ،ص ۱۰۷، ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور ، اکتوبر ۱۹۹۵ء
(۴) تذکرہ صدر الشریعہ ، ص ۵۱
(۵) ایضاً ، ص۲۳
(۶) صدرالشریعہ نمبر مبارکپور ، ص۷۴۔۷۵
(۷) ایضاً ، ص ۳۶
(۸) ایضاً ،ص ۵۰
(۹) تذکرہ صدرالشریعہ ، ص ۴۶
(۱۰) ایضاً ، ص ۴۷
(۱۱) ایضاً ، ص ۵۲
(۱۲) روداد مدرسہ حافظیہ دادوں علی گڑھ ، ۵۸/۱۳۵۷ھ ، ص ۵
(۱۳) بہار شریعت ،فاروقیہ بکڈپو دہلی ، ج ۱۶، ص ۲۱۰
(۱۴) ایضاً ، ج۸، ص ۱۴۴
(۱۵) ایضاً ، ج۱۶، ص ۲۰۴
(۱۶) فتاویٰ امجدیہ ، ج ۴ ، ص۱۰۔۱۱
(۱۷) ایضاً ، ج۴، ص۱۶
(۱۸) بہار شریعت ج۱۶، ص ۲۱۰
(۱۹) ایضاً ، ج ۱۲ ، ص۷۳