*عرض:* کیا ہر نبی پیدائشی نبی ہے اور نبوت کا اعلان چالیس سال کی عمر میں ہوتا ہے؟ یا چالیس سال میں نبوت ملتی ہے؟


*ارشاد:* پیدائشی نبی تو چند ہوئے اور ہمارے سرکار ابد قرار صلی الله تبارک و تعالیٰ علیہ وسلم سب سے پہلے نبی ہیں اور سارے انبیاء علیہم السلام سے پہلے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ظہور ہوا اور جب ہی سے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو منصب نبوت عطا کیا گیا:


*کنت نبیاً واٰدم بین الروح والجسد*


میں نبی تھا جبکہ آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا خمیر تیار نہیں ہوا تھا اور وہ روح اور جسد کے درمیان تھے۔ (سنن ترمذی، ج ۱۳، ص ۱۸۹، حدیث ۳۹٦۸)


*وان آدم لمنجدل فی طینتہ*


آدم اپنے خمیر میں تھے کہ میں اس وقت نبی تھا۔ (کشف الخفاء، ج ۲، ص ۱۰۱۲، حدیث ۲۰۱۷)


مختلف قسم کی روایتیں اس سلسلے میں آئی ہیں اور آیت کریمہ سے یہ معنیٰ ان احادیث کا معنیٰ ثابت ہوتا ہے جس میں الله تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:


*وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَکُمْ رَسُوْل'' مُّصَدِّق'' لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہ وَلَتَنْصُرُنَّہ*


یاد کرو جب الله تبارک و تعالیٰ نے نبیوں (علیہم السلام) سے یہ وعدہ لیا تھا کہ جو کچھ کتاب اور حکمت میں تم کو دوں پھر تمہارے پاس تشریف لے آئے وہ رسول (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔


اس آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ الله تبارک و تعالیٰ نے عالم ارواح میں حضور صلی الله تبارک و تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ اُس انبیاء (علیہم السلام) کی انجمن میں صدرِ انجمن محمد رسول الله صلی الله تبارک وتعالیٰ علیہ وسلم کو بنایا اور انبیاء (علیہم السلام) سے عہد لیا کہ یہ جو تمہارے صدر ہیں محمد رسول الله صلی الله تبارک و تعالیٰ علیہ وسلم میں تم کو نبوت دیتا ہوں اس شرط پر کہ عالم اجسام میں اگر یہ تمہارے نبوت کے دور میں ظاہر ہوئے تو ان پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے؟ ابھی وہ کہہ نہیں پائے تھے اقرار نہیں کر پائے تھے کہ الله تبارک و تعالیٰ نے سبقت کر کے پوچھا:


*قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ*


کیا اس کا اقرار کرتے ہو؟ اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا؟


تو انہوں نے سب نے کہا :


*قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا*


کہا کہ ہم سب نے اقرار کیا۔


*قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ*


الله تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ اب آپس میں گواہ ہوجاؤ اس بات پر اور میں تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ (سورہ آل عمران آیت ٨١)


حضرت جلال الملۃ والدین سبکی علیہ الرحمۃ نے *التعظیم والمنۃ* میں حضور صلی الله تبارک وتعالیٰ علیہ وسلم کی عظیم فضیلت اور عظیم خوبی اور خصوصیت کو اس میں ظاہر کیا ہے۔ اور چالیس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اعلان نبوت سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔



*تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری (علیہ الرحمہ)*
اتوار، ۲۵ جولائى ۲۰۱۰
بمقام جدّہ، حجاز مقدس