عورت اور مغرب


جدید مغربی سرمایہ دارانہ تہذیب نے عورت پر وہ پانچ بڑے مظالم کئے ہیں جو دنیا کی کسی تہذیب میں آج تک نہیں کئے گئے، ملاحظہ ہوں:


👈🏻 اولاً: عورت کو سرمایہ دارنہ تشہیر کا آلہ بنایا ہے، یہاں تک کہ اس سے اس کی چار دیواری چھین کر سرمایہ کی اس دوڑ میں گدھے گھوڑوں کی طرح اسے دوڑایا ہے!


👈🏻 ثانیاً: اس کا خاندانی نظام چھین کر اسے اولڈ ہوم تک پہنچایا، سنگل پیرنٹ Single parent کا تصور عام کر کے اس خاندانی زوال کو عورت کے کندھوں پر مسلط کیا ہے، یہاں تک کہ اب جانوروں کو اپنی زندگی بھر کا رفیق سفر بنانا بھی فیشن قرار پایا ہے!


👈🏻 ثالثاً: فتنہ فیمنزم (feminism) کے نام عورت کا بوجھ باٹنے والے مرد کو عورت کا دشمن اور خود عورت کو مرد کا دشمن قرار دیا گیا!


👈🏻 رابعاً: مغرب میں کیونکہ مادہ پرستی کا غلبہ ہے اس لئے وہاں افادیت، معنویت پر مقدم ہے بلکہ افادیت پرستی (Utilitarianism) ہی اصل الأصول قرار پائی ہے۔ اس زاویہ فکر کے اعتبار سے عورت کا سرمایہ دارانہ تحرک اس کے سماجی و تہذیبی تفاعل کا بہترین متبادل اور تدارک قرار پایا ہے یوں جدید دور میں اگر عورت اپنے خونی رشتوں کا حق ضیافت ادا کرتی ہے تو اس کو تہذیبی افتخار و روایت نہیں بلکہ اس غریب کی مجبوری سمجھا جاتا ہے اور اگر یہی عورت کسی انٹرنیشنل کپمنی میں ایئر ہوسٹسٹ ہو اور غیر مردوں کو اپنی معاشی ''مجبوری'' کی وجہ سے مہ نوشی تک کرواتی ہو تو سرمایہ کے اس جبر کو اس کی خودمختاریت پر محمول کیا جاتا ہے یوں مغرب کا عورت پر تاریخی تہذیبی اخلاقی ظلم یہ بھی ہے کہ اس نے عورت کی افادیت کو اس کی تہذیبی سماجی معنویت کا متبادل قرار دیا ہے اور اسی انحراف کو حقوق نسواں کی کسوٹی و میزان بتلایا ہے۔


👈🏻 خامساً: مغربی جمالیاتی حس (Western aesthetic sense) نے سماج میں عورت کے تعارف کی معنویت کی تمام تر جہتوں کی نفی کر کے اس سے وابستگی کو صرف رومانویت پر محمول کیا ہے۔ اس کی عصری نمایاں ترین مثال یہ ہے کہ کسی فلم میں اگر عورت کسی غیر مرد کے کندھے پر سر رکھ کر رو رہی ہو تو فلم دیکھنے والے رومانویت زدہ سارے مفکرین و دانشور حضرات بھی اس فرضی منظر و کہانی پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اس حقیقت حال و زوال پر کوئی نہیں روتا کہ اس بیچاری عورت کو اس جابرانہ سرمایہ دارانہ نظام نے کس قدر مجبور کیا ہے کہ وہ محض تحصیل معاش کے لئے اپنی پلکوں کے آنسو رات کے اندھیرے میں کسی غیر مرد کے کندھے پر رکھ کر صاف کرے۔


اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عورت پر ظلم یہ تہذیب اسلامی کا مسئلہ ہی نہیں اس لئے ہم جواب دہ بھی نہیں بلکہ یہ خالصتاً اہل مغرب کی سوغات ہیں۔ نیز اس لئے عورت کی تقدیس و منصب کی بازیابی کیلئے تہذیب مغرب کا انفجار و انہدام ناگزیر ہے!




طوقِ تہذیبِ فرنگی توڑ ڈالو مؤمنوں!
تیرگی انجام ہے یہ روشنی اچھی نہیں


(حضور تاج الشریعہ نور اللہ مرقدہ شریف)




خیال و خامہ - ابو الھند


🌍 سلسلہ اشاعت و احیاء تہذیبِ اسلامی اور رد تہذیب افرنگ