💔 دل آزاری💔


پہلےعلما حق بیانی کو ترجیح دیتے تھے ، اَب حق بیانی پر لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے ۔


یہ جو نئی پود آرہی ہے ( الا ماشاءاللہ ) ، اس نے تو مذہب و مسلک ہی یہ بنالیا ہے کہ:


کسی کی دل آزاری نہیں کرنی ۔


یاد رکھیے! جو عالم صِرف یہ سوچ کر لکھتا اور بولتا ہے کہ:
میں نے کسی کی دل آزاری نہیں کرنی ۔


وہ حق بیانی سے محروم ہو جاتا ہے ، اور منافقت و مداہنت اس کے رَگ و پے میں سرایت کرجاتی ہے ۔


دین دار عالِم وہی ہے جو دینِ حق کو ، بیان کرنے کے لیے حق گوئی سے کام لے ، پھر چاہے لوگوں کی دل آزاری ہو یا دل جوئی ۔


فقیہِ اعظم مولانا محمدشریف کوٹلوی رحمہ اللہ ایک جگہ تقریر کرنے گئے تو اُنھیں کہا گیا:


حضرت! کسی کے خلاف تقریر نہیں کرنی ، تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔


آپ نے فرمایا: کس موضوع پر کرنی ہے ؟


کہا گیا: نماز ، روزے اور اصلاحِ معاشرہ پر ۔


آپ نے فرمایا:
نماز پر تقریر کرتے ہوئے جب بے نمازی کی سزائیں بیان کروں گا ، اور کہوں گاجو نماز نہیں پڑھتا وہ مجرم اور مستحق عذاب ہے ، تو تقریر اختلافی ہوجائے گی ؛ جس سے بے نمازیوں کی دل آزاری ہوگی ۔
اسی طرح اصلاح معاشرہ کرتے ہوئے جب جھوٹوں ، رشوت خوروں ، خائنوں ، بد دیانتوں کی مذمت کروں گا تو اُن کی دل آزاری ہوجائے گی ؛ اب بتائیں میں کیا کروں!!


✍لقمان شاہد
22/8/2019 ء