🌴 امام مسجد کی چُھٹی 🌴


میرے ایک دوست امامت کرواتے تھے ، اُنھوں نے بڑی تَگ و دَو سے پلاٹ خرید کر مکان بنالیا اور مجھے کہنے لگے:


لاہور کی ایک جامع مسجد کے امام صاحب بڑے بَرگُزیدہ عالم تھے ۔
اُنھوں نے 22 سال اُس مسجد میں امامت و خطابت اور تبلیغ کافریضہ انجام دیا ۔
مسجد کو اللہ کا گھر سمجھ کر آباد رکھا ، اُس کی صفائی سُتھرائی خود کی ، اور جملہ ضروریات کا بھی دھیان رکھا ۔
اِس عرصے میں نہ وہ اپنا گھر بناسکے ، نہ کوئی کاروبار ؛ کیوں کہ ذرائع آمدن ہی اتنے محدود تھے ، جس میں وہ کیا بنا سکتے تھے !!
مسجد انتظامیہ نے انھیں 22 سالہ اس خدمت کا یہ صلہ دیا کہ اُنھیں بلاوجہ امامت سے معزول کردیا ۔
نہ طویل خدمت دیکھی ، نہ معاشی حالت اور نہ علم و بزرگی ۔


تو میں نے اِس واقعہ سے یہ سبق سیکھا کہ امامت ایسی ذمے داری ہے جس سےکسی وقت بھی بلاوجہ معزول کیا جاسکتا ہے ، لہذا بہتر یہی ہے کہ معزول ہونے سے پہلےپہلے بندہ اپنی جگہ بنالے ، تاکہ جب مسجد والے نکالیں تو دھکے نہ کھاتا پھرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


میرے اس دوست کاخدشہ درست ثابت ہوا ، وہ جس مسجد میں پندرہ سال سے امامت کررہے تھے ، بغیر کسی شرعی عذر کے انھیں بھی معزول کردیا گیا ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌴🌴🌴


امامت جتنا عظیم منصب ہے ، ائمہ مساجد اُتنی ہی آزمائشوں میں ہیں ۔
مشاہرے اور سہولتیں قلیل سے قلیل دی جاتی ہیں ، جب کہ باتیں طویل سے طویل سُنائی جاتی ہیں ۔
پھر جب تک امام ہاں میں ہاں ملاتا رہے ، واہ واہ ؛ سرِ مُو انحراف کرے تَو تُو تُو مَیں مَیں پہ بات آجاتی ہے ۔


اللہ تعالیٰ ہمیں ائمہ مساجد کا احترام نصیب فرمائے ، اور اُن کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کی توفیق دے ۔


1: مسجد انتظامیہ بادشاہ نہیں ہوتی ، کہ جس کی رعایا امام صاحب ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتظامیہ اللہ کے گھر کی نوکر اور خاک رُوب ہوتی ہے ۔
اس پر جس طرح مسجد کے در و دیوار کا احترام لازم ہے ، اسی طرح اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرنے والے امام کا حترام بھی لازم ہے ۔


2: مشاہرہ پیش کرنے کی وجہ سے امام صاحب غلام نہیں بن جاتے ، امام ہی رہتے ہیں ۔
جس طرح دن رات والد کی خدمت کرکے بیٹا ، بیٹا رہتا ہے ، اور باپ ، باپ ۔
اسی طرح امام بھی امام رہتا ہے ، اور مقتدی ، مقتدی ۔


3: ائمہ کرام ساتویں آسمان سے اتری مخلوق نہیں ، اِسی دنیا کے فرد ہوتے ہیں ۔
اِن سے بہ تقاضاے بشریت غلطی ہوجائے تو اچھے اندازسے اُس کا ازالہ کرنا چاہیے ، یہ نہیں کہ اِنھیں امامت سے ہی معزول کردیا جائے ۔
شیخ الاسلام امام احمد رضا حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بلاوجہ امام کو معزول کرنا ممنوع ہے ، حتیٰ کہ حاکمِ شرع کو ( بھی ) اس کا اختیار نہیں دیا گیا ۔
ردالمختار میں ہے: بغیر کسی وجہ کے قاضی ( بھی ) مقرر امام کو معزول نہیں کرسکتا ۔


اللہ پاک ہر مسجد کی انتظامیہ کو ہدایت پر قائم رکھے اور ائمہ کرام کو بے لوث خدمتِ دینِ متین کی توفیق عطافرمائے!


لقمان شاہد
23/8/2019 ء