شیعوں کی معتبر ترین کتاب نہج البلاغۃ میں سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم موجود ہے کہ:
.
ومن كلام له عليه السلام وقد سمع قوما من أصحابه يسبون أهل الشام أيام حربهم بصفين إني أكره لكم أن تكونوا سبابين، ولكنكم لو وصفتم أعمالهم وذكرتم حالهم كان أصوب في القول
ترجمہ:
جنگ صفین کے موقعے پر اصحابِ علی میں سے ایک قوم اہل الشام (سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرھما رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین) کو برا کہہ رہے تھے، لعن طعن کر رہے تھے
تو
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا:
تمہارا (اہل شام، معاویہ ، عائشہ صحابہ وغیرہ کو) برا کہنا لعن طعن کرنا مجھے سخت ناپسند ہے ، درست یہ ہے تم ان کے اعمال کی صفت بیان کرو...(نہج البلاغہ ص238)
.
①ثابت ہوا سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہ صحابہ کرام کی تعریف و توصیف کی جائے، شان بیان کی جائے....یہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پسند ہے..
.
②ثابت ہوا کہ سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ وغیرہھما صحابہ کرام پر لعن طعن گالی و مذمت کرنے والے شیعہ ذاکرین ماکرین رافضی نیم راضی محبانِ اہلِ بیت نہیں بلکہ نافرمان و مردود ہیں،انکےکردار کرتوت حضرت علی کو ناپسند ہیں..سخت ناپسند
.
سوال:
سیدنا معاویہ کے خاندان نے جو دشمنی نبھائی جو اسلام و مسلمین کو اذیت و نقصانات پہنچائے، ان سب کو بھلا کر کیسے تعریف کی جائے......؟؟
جواب:
جی بالکل مسلمان ہونے سے پہلے بالفرض جو اذیتیں مشکلات نقصانات اسلام کو پہنچائے،جو مظالم و گناہ کییے ان سب کو مسلمان ہوجانے کے بعد بھلا دینا واجب ہے.....مسلمان ہونے کے بعد ان کرتوت،مظالم و گناہ کو بنیاد بنا کر مذمت کرنا جرم ہے....
الحدیث:
أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُمَا كَانَ قَبْلَهُ
ترجمہ:
اسلام لانے سےپہلے جو گناہ و مظالم اس نے کیے اسلام لانے کے بعد اسلام ان گناہ و مظالم کو مٹا دیتا ہے
(اہلسنت کتاب مسلم حدیث192)
(شیعہ کتاب میزان الحکمۃ2/134)
.
ہاں اسلام لانے کے بعد اعلانیہ مظالم و گناہ کیے تو مذمت بائیکاٹ روک تھام برحق و لازم ہے...سیدنا معاویہ اور ان کے خاندان نے اسلام لانے کے بعد کوئی مظالم و گناہ نہیں کییے.....بس شہادت عثمان پر قصاص کا مطالبہ سیدنا علی کے ساتھ تنازع کا باعث بنا.......اس تنازعے کو بنیاد بنا کر کچھ لوگ سیدنا معاویہ وغیرہ کی مذمت کر رہے تھے تو سیدنا علی نے انکو مذمت سے روکا جیسا کہ اوپر ہم بیان کر آئے، کیونکہ یہ تنازعہ ظلم و گناہ نہ تھا بلکہ اجتہادی خطاء تھا جس پر مذمت نہیں بنتی
البتہ
یزید پلید نےاسلام کے بعد جو مظالم و گناہ کییے اس پر مذمت بائیکاٹ روک تھام برحق ہے
.
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے مخالفین مثل سیدنا معاویہ و عائشہ وغیرہ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ:
یہ سب مشرک و کافر نہیں، یہ منافق و گمراہ نہیں،ان سے ہماری جنگ کفر و منافقت کی بنیاد پر نہیں ، یہ تو ہمارے بھائی ہین جنہوں نے اجتہادی بغاوت کی ہے(اجتہادی بغاوت گناہ و ظلم نہیں) یہ لوگ اپنے اپ کو حق پر سمجھتے ہیں اور ہم اپنے اپ کو حق پر سمجھتے ہین اس لیے ان سے جنگ ہوئی یا ہو رہی ہے..(بحار الانور32/324ملخصا)
.
بھلا دشمن و ظالم کو سیدنا علی اپنا بھائی کہہ سکتے ہیں....؟،ہرگز نہیں......یہی وجہ ہے کہ سیدنا علی نے سیدنامعاویہ وغیرہ کو اپنا مسلمان بھائی کہا،انکی مذمت سے روکا.........سیدناعلی کی ہدایات کے باوجود جو شیعے رافضی نیم رافضی سیدنا معاویہ وغیرہ کی مذمت کرتے ہیں وہ اہلبیت کے نافرمان گدھے مجرم فسادی ہیں.....جہیں سمجھایا جائے گا، سمجھ گئے تو اچھی بات ورنہ انکی مذمت بائیکاٹ قید و سزا برحق بلکہ لازم.................!!
.


حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شیعوں سے فرمایا:
میں تمھیں وعظ و نصیحت کرتا ہوں، سمجھاتا ہوں
مگر
تم لوگ(وعظ نصیحت ہدایت) سے نفرت کرتے ہو گویا تم بدصورت بھگوڑے(بزدل،نافرمان) گدھے ہو....(شیعہ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی1/231)
.


✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر