قادیانی فتنہ اسلام کے خلاف صہیونی سازش


غلام مصطفٰی رضوی،
نوری مشن مالیگاؤں


[7 ستمبر 1974ء کو علمائے کرام کی کوششوں سے قادیانی فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا؛ اس لیے 7 ستمبر کو تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کے اہم دن کی حیثیت سے منایا جاتا ہے-]


قادیانی تحریک اسلام مخالف قوتوں کی منظم سازش کا عملی نمونہ ہے۔ جس نے عقائد اسلامی کی فصیل میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں توہین کی جرأت کی۔ اس فرقے اور فتنے سے امت مسلمہ کے ہر فرد کا با خبر ہونا ضروری ہے تا کہ ان کے فتنہ و شر سے عقیدہ و ایمان محفوظ رہ سکے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں سب سے نمایاں کردار علما اور مسلمانوں نے ادا کیا۔ انگریز کو اس سے مسلمانوں کی ایمانی تپش اور حمیت کا اندازا ہو گیا، انھیں محسوس ہوا کہ جب تک مسلمان متحد رہیں گے ان کا اقتدار خطرے میں رہے گا۔ انگریزوں نے مسلمانوں میں انتشار و افتراق کو پروان چڑھایا، انھیں ملت کی آستینوں میں ایسے افراد مل گئے جو ان کے مشن کو فروغ دینے کا سبب بنے۔متعدد فرقے انگریزوں کی کو ششوں سے وجود پا ئے جن میں ایک نمایاں فرقہ قادیانی ہے، جس کے بانی کذاب مرزاغلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۰ء میں انگریز کے زیر اثر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا؛ حالاں کہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضور رحمت عالم سرور کونین ﷺآخری نبی ہیں اور خاتم النبیین ۔اس پر نص قطعی اور احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حکم پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے پہلے مدعیِ نبوت مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کی اور اس سے جہاد فرمایا اور جاں فروشی کی مثال قائم کر کے اُمتِ مسلمہ کو درس دے دیا کہ ناموس رسالت مآب ﷺ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا جائے اور کسی کذاب یاقادیانی کو پنپنے نہ دیا جائے؛ گویا اسوۂ صدیقی ہر جھوٹے مدعی نبوت کی سرکوبی کے لیے رہ نما اور رہبرہے ۔ انگریزنے قادیانیت کو ہر ممکن مدد فراہم کی اور آج بھی اس فتنے کو انگریز کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ یہ پوری دنیا میں مال و زر کی بنیاد پر سرگرم ہیں، اور اپنے مکر و فریب کے ذریعے ایمان کی دولت قلبِ مسلم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔


قادیانیت برطانوی حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ انھیں سٹیلائیٹ کی قوت مہیا کر دی گئی ہے اور ان کا ٹیلی ویژن ۲۴؍ گھنٹے اپنے جھوٹے عقائد کی تشہیر کر رہا ہے، یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ یہودی مسلمانوں کے تو خون کے پیاسے ہیں لیکن اسرائیل میں قادیانیوں کو ہر طرح تبلیغ کی چھوٹ دے رکھے ہیں؛ اسی طرح روس میں جہاں کمیونزم کے نام پر مذہب کوپابند سلاسل کر دیا گیا تھا وہاں قادیانیت مستحکم ہے؛ اوریہی کچھ سہولتیں جرمنی و فرانس اور دوسرے خطوں نیز مغربی ملکوں میں انھیں مہیا ہیں۔


جب اس فتنے نے سر اٹھایا تو علما نے اس کے سد باب میں کمر کس لی اور تصنیف و تالیف و تقریر وتحریر کے ذریعے قادیانیت کا ردِ بلیغ فرمایا۔ اس سلسلے میں علمائے حرمین طیبین نے امام احمد رضا قادری محدث بریلوی(م۱۹۲۱ء) کی تحریک پر قادیانی و دیگرفرق ہائے باطلہ کے کفر کا فتویٰ صادر کیا جو ۱۳۲۴ھ میں جاری ہوا اور حسام الحرمین کے نام سے اس کی اشاعت ہوئی۔اسی طرح امام احمد رضا نے اس فتنے کے رد میں متعدد کتابیں لکھیں جو مطبوع ہیں اور آج بھی قادیانی ان سے لرزاں و پریشاں ہیں؛ اسی طرح بریلی سے ایک مستقل ماہ نامہ بھی جاری فرمایا، کتابوں کے نام اس طرح ہیں:جزاء اللّٰہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ، المبین ختم النبیین، السوء والعقاب علی المسیح الکذاب، الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی، قہرالدیان علی مرتد بقادیان۔ آپ کے فرزندِ اکبر علامہ حامد رضاخان قادری نے الصارم الربانی علٰی اسراف القادیانی تصنیف کی؛ جو ۱۳۱۵ھ میں مطبع حنفیہ پٹنہ سے اور بعد کو بریلی، لاہوروممبئی سے شائع ہوئی ۔ اس دور کے دوسرے علما ومشائخ نے بھی اس فتنے کو طشت از بام کرنے میں جدوجہد کی جن میں حضرت پیر مہر علی شاہ (گولڑہ شریف) کا نام بڑا نمایاں ہے۔


عالمی مبلغ اسلام تلمیذ اعلیٰ حضرت؛ علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی نے اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں پوری دنیا کا دورہ فرمایا۔آپ نے افریقہ، سیلون، یورپ، انڈونیشیا، ملائیشیا، برما، اور بلاد عربیہ میں قادیانیت کے خلاف کام کیا اور مسلمانوں کو ان کے فریب سے آگاہ کیا۔ قادیانیت کے رد میں آپ کی انگریزی تصنیفThe Mirriorبیرون ممالک بہت مقبول ہوئی؛ اس کا عربی میں المرآۃ کے نام سے ترجمہ ہوااسی طرح اردو میں مرزائی حقیقت کا اظہار تحریر فرمائی، جس کا ملائیشیا کی زبان میں جب ترجمہ شائع ہوا تو وہاں کے مسلمانوں میں تحریک اٹھی اور وہاں قادیانیت کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ علمائے اہلِ سنّت کی کوششوں سے ۱۹۷۴ء میں پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا گیا جس کے لیے باضابطہ بل منظور کیا گیا اور آئین کا حصہ بنا دیا گیا ، جس کا خلاصہ اس طرح ہے:جو شخص محمد ﷺ جو آخری نبی ہیں کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتاہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے۔ (ماہ نامہ ضیائے حرم لاہور،دسمبر۱۹۷۴ء، ص۳۵۔۳۶)


قادیانی تحریک کے سد باب میں اعلیٰ حضرت کے محب پروفیسر الیاس برنی (پروفیسر معاشیات جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن)کی تصنیف قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ نے اہم کردار ادا کیا اس تصنیف نے عالمی شہرت پائی ،اس کی جامعیت کی پیر مہر علی شاہ چشتی گولڑوی نے بھی داد دی۔نیز آپ نے انگریزی میں بھی اس موضوع پر وقیع کام کیا جس کے اثرات اب بھی پائے جاتے ہیں۔


عصر حاضر میں جب کہ اسلام پرکئی طرح کے حملے کیے جا رہے ہیں۔ کہیں ناموسِ رسالت پر حملہ ہے تو کہیں مستشرقین کی تنقیدی سرگرمیاں اور سیرت طیبہ پر اعتراض و گستاخی، اور اسلامی قوانین پر اعتراض ، ایسے حالات میں قادیانیت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے انھیں اسلام مخالف قوتیں تعاون فراہم کر رہی ہیں اور مادی و جدید ٹکنالوجی کے سہارے قادیانی فتنہ مسلمانوں کی تباہی کے درپے ہے ایسے میں مسلمانوںکی ذمہ داری ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت کی نشرو اشاعت کریں اور ہر مسلمان کو اس عقیدے کی اہمیت سے باخبر کریں۔ اس پر کتابوں کو مختلف زبانوں میں شائع کریں،اخبارات بھی اپنا کردار نبھائیں اور قادیانیت کے رد میں ذہن سازی کر کے اُمتِ مسلمہ کے ایمان و ایقان کے تحفظ کا فریضہ سر انجام دیں ۔ ابھی ہم اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ یہ فتنہ ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے رہا، یہ ہماری بھول اور بے خبری ہے۔ یہ بیدار ہونے کا وقت ہے ؎


سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے


قادیانی نئی نئی فتوحات کے پر فریب منصوبے تشکیل دے رہے ہیں اور بالخصوص برصغیر ان کے نشانے پر ہے، یہاں کی غریب مسلم آبادیوں کا ایمان وہ مادی اور مالی آسائشوں سے خریدنا چاہتے ہیں ، سماجی و فلاحی کاموں کی آڑ میں اپنا دائرہ پھیلانا چاہتے ہیںاور اس سلسلے میں انھیں در پردہ فرقہ پرست تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہے؛ امریکہ نواز حکومتیں ان کی معاون ہیں؛ تو کیا ہماری ذمہ داری نہیں کہ ہم بیدار ہو کر قادیانیت کا رد اور سدباب کریں؟ راقم کے خیال میں اس کے سد باب کا کامیاب لائحۂ عمل یہی ہو گا کہ آقا رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کا موضوع سر فہرست رکھ کر اس کی اشاعت وتبلیغ کی جائے اور یہ ایمانی تقاضا بھی ہے ؛اس سلسلے میں امام احمد رضا کی جو تصانیف و رسائل ہیں ان کو گھر گھر عام کر دیا جائے ،انھیں تسہیل و تخریج کے مرحلے سے گزار کر منظر عام پر لایا جا ئے ۔ اس طرح کا علمی کام ایمان افروز بھی ہوگا اور وقت کا تقاضا بھی ۔ امید کہ اصحاب بصیرت اس سلسلے میں کوئی مؤثر اور فوری اقدام کریں گے؎


بزم آخر کا شمع فروزاں ہوا
نور اول کا جلوہ ہمارا نبی ﷺ