یہ جھوٹ ہے کہ سیدہ فاطمہ علی عباس ازواج مطہرات اہلبیت وغیرہ کو رسول کریم کی املاک سے مطلقا محروم کیا گیا....سچ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےخود بی بی فاطمہ و اہلبیت میں سے کسی کو مالک نہ بنایا بلکہ نبی پاک نے اپنی ساری ملکیت اسلام کے نام وقف کی اور فاطمہ ازواج مظہرات اہلبیت وغیرہ پر وقف میں سے جو نفعہ پیداوار ملتی اسکو ان پر خرچ کرتے تھے
اسی طرح رسول کریم کی سنت پے چلتے ہوئے حضرت سیدنا صدیق اکبر عمر و علی رضی اللہ عنھم نے بھی اہلبیت آل رسول ازواج مطہرات وغیرہ کسی کو مالک نہ بنایا
بلکہ
فدک وغیرہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کےچھوڑےہوئےصدقات میں سےسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آل محمد اہلبیت ازواج مطہرات فاطمہ علی عباس پر
اور
کچھ صحابہ اور کچھ عوام مسلمین پر خرچ کرتےتھےعمر و علی رضی اللہ عنھما نے بھی یہی طریقہ جاری رکھا یہی طریقہ رسول کریم کا رہا تھا
(دیکھیے تاریخ الخلفاء ص305,
ابوداود روایت نمبر2970,2972,
سنن کبری للبیھی روایت نمبر12724
بخاری روایت نمبر2776،3712،)
.
انبیاء کرام علیھم السلام کی میراث درھم و دینار(کوئی مالی میراث)نہیں،انکی میراث تو فقط علم ہے
(شیعہ کتاب الکافی1/34)
مذکورہ سب حوالہ جات کے اسکرین شاٹ میری فیسبک پے موجود ہیں
.
ترضاھا حتی رضیت
سیدناصدیق اکبر بی بی فاطمہ کو(سمجھاکر،غلط فھمیاں دور فرما کر)مناتےرہےحتی کہ سیدہ راضی ہوگئیں(سنن کبری12735)
.
سیدہ فاطمہ کی وصیت:میری میت کوغسل ابوبکرکی زوجہ اورعلی دیں(شیعہ کتاب مناقب شہرآشوب3/138
بھلا دشمن کی بیوی کوایسی وصیت کوئ کرتاہے؟
.
درج ذیل فوٹو میں شیعہ کتاب دکھا کر کہہ رہا ہے کہ اہلسنت کی کتاب الملل و النحل میں لکھا ہے کہ حضرت عمر نے بی بی فاطمہ کے پیٹ پے مارا اور(پیٹ میں موجود بچہ) محسن شہید کر دیا...شیعہ اسے بڑے فخر سے خوب پھیلا رہے ہیں
.
دوستو بھائیو ایک اصول یاد رکھیں بہت کام آئے گا، اصول یہ ہے کہ شیعہ جھوٹ بولتے ہیں اور نام اہلسنت کتاب کا ڈال دیتے ہیں جلد نمبر صفحہ نمبر حتی کہ لائن نمبر بتاتے ہیں تاکہ رعب بیٹھے اور سننے پڑھنے والا سچ سمجھ لیے یہ ان کی مکاری دھوکہ بازی جھوٹ و افتراء ہے
لیھذا
شیعہ کی باحوالہ بات کو فورا سچ مت سمجھیے بلکہ معتبر پرمغز اہلسنت عالم سے تصدیق و تردید تحقیق کرائیے
.
الملل و النحل کی پوری بات پڑھیے لکھا ہےکہ
وزاد في الفرية فقال: إن عمر ضرب بطن فاطمة يوم البيعة حتى ألقت الجنين من بطنها
ترجمہ:
(فرقہ نظامیہ کا بانی إبراهيم بن يسار بن هانئ النظام نے)مزید جھوٹ و بہتان باندھتے ہوئے کہا کہ عمر نے فاطمہ کے پیٹ پے مارا اور اپ کے پیٹ میں بچہ گر گیا
(الملل و النحل1/57)
.
ذرا سی بھی عقل والا سمجھ سکتا ہے کہ ملل نحل میں تو اس کو جھوٹ بہتان و افتراء کہا ہے اور شیعہ آدھی بات پیش کرکے مکاری و دھوکہ بازی دیتے ہوئے کیا مفھوم بدل کر پیش کر رہے ہیں....فلعنۃ اللہ علی الکاذبین الماکرین


✍تحریر: علامہ عنایت اللہ حصیر